Showing posts with label Health News. Show all posts
Showing posts with label Health News. Show all posts

Friday, 12 January 2018

کیلی فورنیا میں بارش کا پانی مہنگے داموں فروخت ہونے لگا

Rain Water Selling
پانی کا ذخیرہ ختم ہونے پر بارش کے پانی کی قیمت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، فوٹو:انٹرنیٹ
سان فرانسسكو: امریکی ریاست کیلی فورنیا میں بارش کا جمع شدہ پانی ’لائیو واٹر‘ کے نام سے ہوش ربا  قیمت میں فروخت ہونے لگا۔ محض ڈھائی لیٹر پانی کی قیمت 40 ڈالر یعنی 4100 پاکستانی روپے تک پہنچ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلی فورنیا کے بعض علاقوں میں آج کے ترقی یافتہ اور جدید دور میں ٹیکنالوجی کے رجحانات کے برعکس  بارشوں کا پانی فروخت کیا جارہا ہے اور لوگ اسے حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خرید بھی رہے ہیں۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے مختلف شہروں میں فروخت ہونے والے بارش کے اس پانی کی ڈھائی لیٹر کی ایک بوتل کی قیمت 40 امریکی  ڈالرہے اور امکان ہے کہ اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جس انداز میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے وہ دراصل استعمال کرنے والے کے لیے زحمت کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس پانی کو فروخت کرنے سے قبل جراثیم سے پاک اور فلٹر نہیں کیا جاتا اس لیے اس پانی کو پینے سے ہیپاٹائٹس اے، ای کولائی انفیکشن اور ہیضے سمیت متعدد بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔
لیکن لوگ ان باتوں کو نظرانداز کرکے پانی کو اس کی اصل حالت میں خریدنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ’’لائیو واٹر‘‘ خام یعنی اصلی پانی ہے جو بارش ہونے کے علاوہ اور کسی ذریعے سے دستیاب نہیں۔
اسی بنا پر بارش کا جمع شدہ پانی بتدریج مہنگا ہوتا جارہا ہے اور اس کا اسٹاک آتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔ ہر بار پانی کا نیا اسٹاک آنے پر اس کی قیمت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے لیکن عوام اسے پھر بھی خرید رہے ہیں۔

Friday, 29 December 2017

سرد ہوا میں ناک کیوں بہنے لگتی ہے؟

ناک اور پھیپھڑوں کا حفاظتی نظام سردی میں ناک سے پانی بہنے کی وجہ بنتا ہے تاکہ پھیپھڑوں میں نمی سے بھرپور ہوا داخل ہو۔ فوٹو: فائل

واشنگٹن: موسمِ سرما کے دوران سرد ہوا میں سفر کرتے وقت اکثر ناک سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سردی اور الجھن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟
طبی زبان میں یہ عمل ’کولڈ انڈیوسڈ رائنِٹس‘ کہلاتا ہے اور 50 سے 90 فیصد افراد کو اس کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ دمے کے مریضوں، بخار کی کیفیت اور ایگزیما کے شکار افراد پر اس کا حملہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔
ہماری ناک کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ پھیپھڑوں کے اندر جانے والی ہوا کو گرم اور نم دار رکھے تاکہ وہ پھیپھڑوں تک پہنچ کر ان کے خلیات کو کسی سوزش اور بے چینی میں مبتلا نہ کرسکے۔
اگر باہر بہت سردی ہو تو بھی ناک کے اندر داخل ہونے والی ہوا کا درجہ حرارت 26 درجے سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جو کبھی کبھی بڑھ کر 30 درجے سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے لیکن ہر حالت میں ناک کے اندر تک نمی 100 فیصد ہوتی ہے خواہ ہم کتنی ہی سردی میں سانس کیوں نہ لے رہے ہوں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناک کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ پھیپھڑوں تک جانے والی ہوا گرم اور نمی سے بھرپور رہے۔ اب سرد اور خشک موسم میں ناک کے اندر کے اعصاب ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے متحرک ہوجاتے ہیں جس کی خبر دماغ تک جاتی ہے۔ اس کے ردِعمل میں دماغ، ناک میں خون کی گردش بڑھاتا ہے اور ناک کے اندر اعصاب اور رگیں گرم ہونے لگتی ہیں۔
دوسری جانب خنکی اور خشکی کی وجہ سے ناک کے اندر خلیات مائع خارج کرتے ہیں تاکہ اندر جانے والی ہوا میں نمی کی آمیزش ہوسکے۔ اسی طرح جسمانی دفاعی نظام ناک کے خلیات کو تحریک دیتا ہے اور یوں ناک سے پانی خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہماری ناک بہتر طور پر کام کرنے کےلیے 300 سے 400 ملی لیٹر پانی خارج کرتی ہے۔
اس دوران ناک کے اندر خون کی روانی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو سانس میں دقت اور چھینکوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

شاہ بلوط کا پھل کینسر کی شناخت میں معاون | Cancer Treatment With Chestnut Fruit

نیویارک: شاہ بلوط کا پھل یا اس کی بوندیاں اکثر زہریلی ہوتی ہیں لیکن ان میں پایا جانے والا ایک کیمیکل سرطانی رسولیوں کی نشاندہی میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
انگریزی میں ہارس چیسٹ نٹ کے نام سے مشہور اس پھل  میں ایک کیمیکل ’ایسکیولِن‘ پایا جاتا ہے ۔اس کیمیکل سے روشن اور چمک دار جیل بنا کر اس سے چھوٹی اور معمولی ترین سرطانی رسولیوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بنا پر یہ کیمیکل بہت جلد ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور الٹرا ساؤنڈ کا حصہ بن جائے گا۔
نیویارک سٹی کالج کے ماہرین نے اس پھل پر تحقیق کرکے بتایا ہے کہ شاہ بلوط کے پھل میں موجود کیمیائی مادہ کم روشنی میں بھی کینسر سے متاثر رسولی یا ٹشو کو ظاہر کرسکتا ہے ۔ اس طرح کینسر کی شناخت ابتدائی مرحلے میں کرکے ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچانا ممکن ہوگا۔
ایسکیولِن کا یہ کیمیکل بہت سی بیماریوں کےعلاج میں بھی استعمال ہورہا ہے۔ اس پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر جین گِرم کہتے ہیں کہ اس کیمیکل پر مبنی جیل بناکر کینسر تصویر سازی (امیجنگ) میں انقلاب لایا جاسکتا ہے جس سے سرطان کی شناخت میں بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر جین کا کہنا ہے کہ پودوں سے حاصل شدہ جیل ماحول دوست، بے ضرر اور کم خرچ ہے ۔ عموماً سرطانی رسولیوں کو نیلی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تاہم نیلی روشنی کی بہت بڑی مقدار بکھرتی اور کمزور ہوجاتی ہے۔
اس کے مقابلے میں یہ مٹیریل ایک جانب تو بہت روشن ہے اور دوسری جانب جب اسے استعمال کیا جائے تو ٹیومر سے منعکس ہونے والی روشنی ایک الگ سمت میں جاتی ہے جس سے سرطان کی شناخت آسان ہوجاتی ہے اور وہ اسکرین پر بہتر طور پر نمودار ہوتا ہے۔
شاہ بلوط کے پھلوں میں ہلکا زہریلا پن ہوتا ہے جو جسم کو متاثر کرسکتا ہے لیکن اس میں نئی دریافت ہونے والی خاصیت نے اسے کینسر کی شناخت کےلیے ایک مضبوط امیدوار بنادیا ہے۔ اس درخت کے پتے جلدی امراض، اندرونی جلن، سوجن اور دل کی کئی بیماریوں کے  لیے استعمال ہوتے ہیں اور اب اس کا پھل کینسر کی شناخت میں بھی مدد کرسکے گا۔

بچوں کو مچھلی کھلائیں اور ذہین بنائیں | Eating Fish, Make Kids Intelligent

مچھلی کھانے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتےہیں۔ فوٹو: فائل

پنسلوانیا: چینی اور امریکی ماہرین نے ایک مطالعے کے بعد کہا ہے کہ جو بچے ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مچھلی کھاتے ہیں بقیہ بچوں کے مقابلے میں ان کا آئی کیو (انٹیلی جنس کوشنٹ) اوسطاً پانچ درجے بہتر ہوتا ہے۔
ایک عرصے سے یہ بات عام ہے کہ مچھلی بچوں کو ذہین بناتی ہے لیکن بعض ماہرین اسے ایک واہمہ ہی خیال کرتے رہے تاہم اب ایک طویل اور بڑے مطالعے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مچھلی کھانے سے بچوں کی ذہانت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
اس ضمن میں چینی بچوں پر ایک تحقیق کی گئی ہے جسے یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے اسکول آف نرسنگ کی پروفیسر جیانگ ہونگ لوئی نے انجام دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’اس تحقیق کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک کے بچوں کی غذائی ترجیحات بدلنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی بہتر طور پر افزائش ہوسکے۔‘
پروفیسر جیانگ ہونگ لوئی نے کہا کہ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تندرست رہیں اور ایک اسکول میں بہترین کارکردگی دکھائیں تو انہیں ہفتے میں ایک مرتبہ کھانے کی میز پر مچھلی ضرور رکھنا ہوگی۔ محققین مزید کہتے ہیں کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بچے کو پرسکون نیند بھی دیتے ہیں جو ان کی دماغی نشوونما کےلیے ایک بہترین نسخہ ہے۔
تحقیق کےلیے ٹیم نے چین میں 500 ایسے بچوں کا انتخاب کیا جن کی عمریں 9 سے 11 برس کے درمیان تھیں اور ان کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ ان بچوں سے کھانے پینے کے معمول پر ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس میں پوچھا گیا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ کتنی مقدار میں مچھلی کھائی تھی۔ اس کے آپشنز میں بالکل نہیں سے لے کر ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کھانا تک شامل تھے۔
ماہرین نے ان بچوں کی ذہنی استعداد ناپنے کےلیے چین میں رائج ویشلر انٹیلی جنس اسکیل استعمال کیا جس میں بچے کے لفظی اظہار (وربل) اور غیر لفظی اظہار (نان وربل) پر مشتمل رویوں کو ناپا جاتا ہے۔ ساتھ ہی والدین سے بچوں کی نیند کے بارے میں بھی پوچھا گیا مثلاً وہ کتنی دیرتک سوتے ہیں، رات میں کتنی مرتبہ بیدارہوتے ہیں یا دن کے دوران سوتے ہیں یا نہیں؟
ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ جو بچے ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کھاتے ہیں ان کا دیگر مچھلی نہ کھانے والے بچوں کے مقابلے میں آئی کیو اوسطاً 4.8  پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔ جن بچوں نے کبھی کبھی مچھلی کھائی تھی ان کی صلاحیت بھی بہتر تھی جبکہ مچھلی بالکل نہ کھانے والے بچے ان سے پیچھے رہے۔
اس تحقیق سے ہٹ کر غذائیت کی ایک اور امریکی ماہر سمانتھا ہیلر نے کہا کہ مچھلیاں پروٹین اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ فیٹی ایسڈ دماغ کے افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کی دماغی نشوونما میں بھی ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بڑوں میں یہ دل اور دماغ کے محافظ ہوتے ہیں تاہم انہوں نے مچھلیوں کے اندر موجود پارے (مرکری) سے متعلق خبردار کیا جو انہیں زہریلا بنارہا ہے۔
ماہرین کا اصرار ہے کہ مچھلی کھاتے وقت ایسی مچھلیوں کی اقسام کو ترجیح دی جائے جن میں پارے کی مقدار کم ہوتی ہے اور اِن میں ٹیونا، سامن اور کیٹ فش کے علاوہ شریمپ سرِفہرست ہیں۔

Tuesday, 19 December 2017

والدین کے ساتھ کھانا کھانے والے بچے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں | Eating With Parents

مانٹریال یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھائیں تو اس کے بچوں پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل
اونٹاریو: ایک حالیہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ کھانا کھانے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتے ہیں اور ان کی دماغی صلاحیتیں بھی بہتر ہوتی ہیں۔
کینیڈا میں بچوں کی نفسیات کے ماہرین نے 5 ماہ سے 10 سال تک کی عمر کے بچوں کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ باقاعدگی سے والدین کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنے والے بچوں کے جسم و دماغ پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر دس سال کے بچے اگر والدین کے ساتھ کھانا کھائیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھاتے ہیں اور مضر مشروبات مثلاً سافٹ ڈرنکس کی جانب کم متوجہ ہوتے ہیں۔
اس سروے کے بعد کینیڈا کے ماہرین نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھانے کے عمل کو بچوں کی زندگی میں سرمایہ کاری تصور کریں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھاتے وقت خوشیوں پر مبنی باتیں ہوتی ہیں اور بچے والدین سے جذباتی طور پر قریب ہوجاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف مانٹریال میں نفسیات کی پروفیسر لنڈا پاگانی نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا یہ عمل کئی طرح سے مفید ہے۔ بچے اس دوران اپنی بات اور مؤقف کا مثبت اظہار سیکھتے ہیں اور یوں وہ باقی دنیا سے اچھے انداز میں بات کرنا سیکھتےہیں۔ پروفیسر لِنڈا نے 1997ء اور 1998ء کے درمیان کینیڈا کے شہر کیوبیک میں پیدا ہونے والے بچوں کا سروے کیا ہے اور اسے ایک طویل عرصے تک جاری رکھا گیا۔
اس مطالعے کو ’’کیوبیک لونگی ٹیوڈینل اسٹڈی آف چائلڈ ڈیویلپمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا جس میں والدین سے پوچھا گیا کہ جب ان کا بچہ 6 برس کا ہوجائے تو وہ یہ بتانا شروع کریں کہ وہ اس کے ساتھ کھارہے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد 10 سال کی عمر تک پہنچنے پر والدین اور اساتذہ سے بچے کی ذہانت، پڑھنے کی صلاحیت اور نفسیاتی کیفیات کے بارے میں رپورٹ کرنے کےلیے کہا گیا۔
ماہرین نے کہا ہے کہ بچے اگر 6 سال کی عمر سے والدین کے ساتھ بیٹھیں اور کھانا کھائیں تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ 10 سال تک یہ بچے والدین سے الگ تھلگ رہ کر کھانے والے بچوں کے مقابلے میں قدرے چاق و چوبند اور صحت مند رہتے ہیں۔

Tuesday, 5 December 2017

وہ 15 عادات جو آپ کو کبھی بیمار نہیں ہونے دیں گی

بعض لوگوں کے نزدیک کمزور قوت مدافعت بھی بار بار بیمار ہونے کی وجہ ہوتی ہے
کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود کچھ لوگ اکثر بیمار رہتے ہیں جبکہ بعض افراد موسم کی سختی کو بآسانی برداشت کرلیتے ہیں اور ہمیشہ صحت مند اور تندرست نظر آتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان کا رہن سہن اور لائف اسٹائل اس کی صحت کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ باربار بیمار ہوتے ہیں۔ کمزور قوت مدافعت بھی بیمار ہونے کی وجہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں آپ کی روزمرہ زندگی بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے اور پریشانیاں و فکریں انسان کو گھیرلیتی ہیں۔ یہاں صحت مند انسانوں کی چند عادات  پیش کی جارہی ہیں جنہیں دیکھ کرکمزور قوت مدافعت کے حامل افراد بھی اپنی معمولات زندگی میں تبدیلی کرسکتے ہیں اور بار بار بیمار رہنے کی عادت سے پیچھا چھڑاسکتے ہیں۔
مثبت سوچ:
بار بار بیمار رہنے کی ایک وجہ آپ کی سوچ بھی ہوسکتی ہے۔ اگر آپ اپنے دماغ میں یہ بات بٹھالیں کہ سرد و گرم موسم کے اثرات آپ پر اثر انداز ہورہے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا مدافعتی نظام کمزور پڑرہا ہے تو آپ لازمی بیمار ہوں گے۔ اس کے برعکس آپ اگر موسم کی سختی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں اور بیماری کے متعلق زیادہ نہ سوچیں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی صحت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں:
زیادہ سے زیادہ پانی پینےکی عادت کو اپنی زندگی میں اس  طرح شامل کرلیں کہ اس کے بغیر آپ کو اپنی زندگی ادھوری محسوس ہونے لگے۔ کوشش کریں کہ دن میں کم از کم 8 گلاس پانی پیئیں۔ صحت مند زندگی میں پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک 20 کلو وزن کے انسانی جسم کو 1 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگر آپ کا وزن 50 کلو گرام ہے تو آپ کو ڈھائی لیٹر پانی کی ضرورت ہے۔
وٹامن سی کا استعمال:
وٹامن سی کا استعمال انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ یہ وٹامن مدافعتی نظام کو بڑھانے کے ساتھ طاقتور بھی بناتا ہے۔ وٹامن سی حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ترش پھل جیسے لیموں، کینو، مالٹا وغیرہ ہیں جبکہ دھوپ سے بھی وٹامن سی حاصل کی جاسکتی ہے۔
بھرپورنیند:
اگر کوئی انسان بے خوابی کا شکار ہے اور جلدی لیٹنے کے باوجود اسے نیند نہیں آتی تو اس کامطلب ہے کہ اس کا مدافعتی نظام بے حد کمزور ہے کیونکہ نیند کا براہ راست تعلق مدافعتی نظام سے ہوتا ہے لہٰذا کوشش کریں کہ بھرپور نیند لیں اور صبح تازہ دم اٹھیں۔
حفظان صحت اور مناسب صفائی:
کوشش کریں کہ اپنے آس پاس کی جگہ خاص طور پر فرش، دروازے، لائٹ، سوئچ بٹن، ریموٹ اور ٹوائلٹ وغیرہ کی صفائی کا بےحد خیال رکھیں کیونکہ گھر میں اگر ایک انسان بیمار ہوگا اور وہ ان تمام چیزوں کو ہاتھ لگائے گا تو اس کے جراثیم گھر کے دیگر افراد میں منتقل ہوجائیں گے جس کی وجہ سے دیگر لوگوں کے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جائےگا۔
موبائل فون کی صفائی:
موبائل فون استعمال کرنے والے یہ بات ذہن میں بٹھالیں کہ موبائل پر نقصان دہ بیکٹریا سب سے زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں لہٰذا موبائل فون کی روزانہ صفائی کو یقینی بنائیں اور اگر ہوسکے تو دن میں دوبار اسے اچھی طرح صاف کریں۔
احتیاطی تدابیر:
سرد موسم کی شروعات ہوتے ہی نزلے اور زکام کے جراثیم انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کے باعث انسان بیمار ہوجاتے ہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی بیمار کرتے ہیں لہٰذا ان جراثیم سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی نزلے اور زکام سے بچاؤ کی ویکسین لے لیں اس طرح آپ کا مدافعتی نظام بیمار کرنے والے جراثیم سے لڑنے کے لیے تیار ہوجائے گا۔
ہاتھوں کو دھونے کی عادت اپنائیں:
ہاتھ دھونے کی عادت ہمیں بچپن سے سیکھائی جاتی ہے۔ یہ عادت حفظان صحت کے اصولوں کے معیار پر پوری اترتی ہے۔ کھانا کھانے سے پہلے اوربعد میں، اس کے علاوہ ٹوائلٹ سے باہر آنے کے بعد بھی لازمی ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں۔
ورزش کرنے کی عادت:
روزانہ ورزش کرنے کو اپنا معمول بنالیں ۔ورزش کرنے سے انسانی صحت پر مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں اور انسان تازہ دم اور چست ہوجاتا ہے۔
گوشت سے پرہیز:
بعض افراد اپنی خوراک میں گوشت لازمی کھاتے ہیں۔ روزانہ گوشت کھانے کی عادت انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے اس سے مدافعتی نظام بھی کمزور ہوتا ہے جب کہ وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو بذات خود ایک بیماری ہے۔
ہری سبزیوں کا استعمال:
گوشت کے بجائے اپنی خوراک میں ہری سبزیوں کا استعمال بڑھادیں۔ ہری سبزیاں اینٹی آکسیڈنٹ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں جب کہ ان میں بہت سارے وٹامن بھی پائے جاتے ہیں جو مدافعتی نظام کو طاقتور بناکر جسم کو جراثیم کے خلاف لڑنے کے تیار کرتے ہیں۔
دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا:
دوستوں کے ساتھ لازمی وقت گزاریں کیونکہ انسان اپنے دوستوں کے ساتھ خوش رہتا ہے جس کے مثبت اثرات اس کی زندگی پر پڑتے ہیں۔
غیر معیاری غذا سے اجتناب:
عموماً نوجوان تیل میں تلی ہوئی چیزیں جنہیں ’اسنیکس‘کہاجاتا ہے بہت شوق سے کھاتے ہیں جب میں چپس وغیرہ شامل ہیں تاہم یہ چیزیں وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں جب کہ انہیں کھانے سے گلے کے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔
ہربل چائے:
ہربل چائے (سبزچائے) اینٹی آکسیڈنٹ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں جو جسم میں موجود اضافی چربی کو زائل کرنے میں نہایت اہم کردار اداکرتے ہیں جبکہ سبز چائے پینے سے انسان نہایت ہلکا پھلکا اور چست محسوس کرتا ہے۔
خوش رہیں:
کوشش کریں ہر بات پر ڈیپریشن اور تناؤ کا شکار نہ ہوں بلکہ بڑی سے بڑی بات کو بھی ہلکے پھلکے انداز میں لیں اوربچوں کی طرح زیادہ سے زیادہ خوش رہنے کی کوشش کریں۔اس کے علاوہ اگر آپ کو سسپنس، خوفناک  اور جرائم والے شوز دیکھنا پسند ہیں تو انہیں فوراً چھوڑ کر کامیڈی فلمیں دیکھنا شروع کردیں۔

Sunday, 22 October 2017

حد سے زیادہ کھانا بھی صحت کی ضمانت نہیں | Overeating is not guarantee for health


زیادہ کھانے کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا لوگ صحت مند اور فربہ ہوں گے اور کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا
 سب سے پہلے اس نے ڈائٹنگ شروع کی ، کچھ عرصہ تو کھانا کم مقدار میں کھایا آہستہ آہستہ ہر وقت کھانا کھانے لگی ۔ بھوک ہر وقت ستائے رہتی ، جب بھی موقع ملا کچن میں گئی اور کچھ نہ کچھ کھا پی لیا ۔ دن میں کئی بار کھانا اور ساتھ ہی قے کا آجانا ، اب معمول بن گیا اور یہ بلائے جان بھی بن گیا ۔ اتنا زیادہ کھانے کے باوجود صحت کمزور ہوتی رہی ۔ ایسا کھانے پینے کی ایک نفسیاتی بیماری میں ہوتا ہے جسے Bulimia Nervosaکہتے ہیں ۔ اس بیماری میں تھوڑے وقت میں زیادہ کھایا جاتا ہے ۔ یہ زیادہ ترنوجوان لڑکیوں میں ہوتی ہے اور اونچی سوسائٹی کے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ برطانویشہزادی ڈیانا بھی کچھ عرصہ اس بیماری کا شکار رہی ۔
علامات :کھانے پینے کی اس نفسیاتی الجھن کو کھانے پینے کے انتشار کی بیماری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پہلے بھوک سخت ستاتی ہے ۔ دل کرتا ہے جو سامنے ہو کھالیا جائے ، کچھ بھی نہ چھوڑا جائے ، اسی وجہ سے بندہ خوب کھاتا ہے ، لیکن فوراً ہی احساس ہوتا ہے کہ میں نے تو بہت زیادہ کھا لیا جس سے جسم موٹا اور بے ہنگم ہوجائے گا ۔ ایک عجیب سی بے چینی ہوجاتی ہے۔ فوراً دل کرتا ہے کہ قے آئے اور سارا کھانا نکل جائے ۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر بھوک لگتی ہے اور اس کے بعد پھر قے ۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے اور ساری شخصیت برباد ہو کر رہ جاتی ہے ۔
علاج اور بچائو زندگی اور صحت بڑی نعمت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی زندگی دی ہے۔ اس کی صحیح حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔ صحت مند رہنے کے لیے صحیح غذا ایک اشد ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ اس اصول کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں زندہ رہنے کے لیے کھانا چاہیے نہ کہ کھانے کے لیے جیا جائے۔ اس کے علاوہ بھی ہزاروں منزلیں اور راستے ہیں جن کے لیے توانائیاں صرف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیے۔ کھانے پینے کے شیڈول کے مطابق کھائیں۔ مقررہ وقت پر کھانا کھانے سے کوئی غذائی انتشار پیدا نہیں ہوتا اور بندہ چنگا بھلا رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ جس کسی کو یہ نفسیاتی الجھن ہو وہ بالکل پریشان نہ ہو ۔ یہ بات طے ہے کہ اس سے آسانی سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اللہ کا نام لے کر اپنی قوت ارادی کو بروئے کار لائیں ۔ کھانے کے وقت خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ مل کر کھائیں ۔ آہستہ آہستہ اور بھوک رکھ کر کھائیں ۔ زیادہ مرغن غذائوں سے پرہیز کریں۔ انشاء اللہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ 

Friday, 13 October 2017

سرجری کی ضرورت نہیں؛ قدرتی طریقے سے دانت خود اُگائیے


Urdu Books and Urdu Novels
اگر یہ طریقہ طبی آزمائشوں میں کامیاب رہا تو آنے والے چند برسوں میں مصنوعی دانت اور بتیسیاں بنانے والوں کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔ 
دانت قدرت کا انمول تحفہ ہیں جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اچھی صحت کے ضامن بھی ہوتے ہیں۔ کسی بالغ انسان کا دانت ٹوٹ جائے تو تکلیف دہ سرجری کے ذریعے مصنوعی دانت لگانا پڑتا ہے جس پر بھاری اخراجات ہوتے ہیں لیکن اب جدید طریقوں کے بجائے قدرتی طریقے سے اپنے دانت خود اگائے جاسکتے ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر جیریمی ماؤ کی سربراہی میں طویل تحقیق کے بعد  ایک ایسا قدرتی طریقہ دریافت کیا ہے جس میں اسٹیم سیلز کے ذریعے 9 ماہ میں قدرتی طور پر دانت اگانا ممکن ہے۔ واضح رہے کہ اسٹیم سیلز ان خلیوں کو کہتے ہیں جو جسم کے کسی بھی عضو میں موجود خلیات بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹرجیریمی کے مطابق اسٹیم سیلز نئے دانتوں کی نشوونما میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں اور اس قدرتی طریقے کی دریافت کے بعد دانتوں کی سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسٹیم سیلزکودانتوں کے ساتھ  ملاکر ان میں ٹشوز شامل کرتے ہوئے نئے دانت اگائے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی دانت ٹوٹ جائے تو اس کے نچلے حصے میں موجود خالی مسوڑھے کے اندر اسٹیم سیلز اور ٹشوز کا ملاپ کرنے سے دانت دوبارہ اُگنا شروع ہوجاتا ہے۔ اسٹیم سیلز ان خلیات کو جنم دیتے ہیں جو ٹوٹے ہوئے دانت کو دوبارہ اگانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں؛ اور یوں نیا دانت بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

یہ طریقہ دانت اگانے کا قدرتی اور آسان عمل ہے تاہم یہ صبر آزما بھی ہے کیونکہ یہ عمل 9 ہفتے لیتا ہے۔ اس قدرتی طریقے سے مصنوعی دانتوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے اور بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ قدرتی طریقہ اپنے آپ میں مکمل اور ہر ایک کے لیے ہے یعنی جو چاہے اسے آزما سکتا ہے۔
یہ تحقیق ابھی طبّی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہی ہے اور اگر کامیاب ثابت ہوگئی تو آنے والے چند برسوں میں مصنوعی دانت لگانے اور بتیسی بنانے والوں کا کاروبار شدید طور پر متاثر ہوسکتا ہے۔

Tuesday, 10 October 2017

اپنے بالوں کے ساتھ یہ 5 چیزیں ہرگزنہ کیجیے ورنہ گنجے ہوجائیں گے

یہ بھی حقیقت ہے کہ بالوں کی جتنی دیکھ بھال کی جائے وہ ٹوٹتے بھی اسی رفتار سے ہیں؛فوٹوفائل
مرد ہوں یا خواتین، دونوں اپنے بالوں کے معاملے میں بہت جذباتی ہوتے ہیں اور ہمیشہ اسی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بالوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بالوں کی جتنی دیکھ بھال کی جائے وہ ٹوٹتے بھی اسی رفتار سے ہیں۔
لیکن اگر احتیاط کی جائے اور چند باتوں کا خیال رکھا جائے تو بالوں کے ٹوٹنے کی رفتار میں کمی لائی جاسکتی ہے اور گنج پن کے خطرے سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔
بالوں کو زیادہ نہ دھوئیں
ملازمت پیشہ افراد اپنے بالوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ دھوتے ہیں کیونکہ دھول مٹی کے باعث بال جلدی خراب ہوجاتے ہیں جب کہ یہ افراد بالوں کی نشوونما کےلیے سب سے ضروری چیز یعنی تیل کا استعمال یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر بہت کم مقدار میں کرتے ہیں، لہٰذا بالوں کو باربار دھونے کے باعث جڑوں میں موجود تھوڑا بہت تیل بھی نکل جاتا ہے جو بالوں کےلیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور بال جھڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب کیمیکلز ملی مصنوعات جیسے شیمپو وغیرہ کا زیادہ استعمال بھی بالوں کےلیے مضر ہے لہٰذا بالوں کو باربار دھونے سے گریز کریں اور ہفتے میں صرف دو بار بالوں کو دھوئیں۔
بالوں کےبڑھنے کا انتظار کریں پھر ترشوائیں
خواتین کے مقابلے میں مرد حضرات زیادہ بڑھے ہوئے بال پسند نہیں کرتے اور جیسے ہی بال ذرا سے بڑھتے ہیں، فوراً سیلون کا رخ کرتے ہیں اور انہیں چھوٹے کرالیتے ہیں، جبکہ کچھ مرد تو مہینے میں دو بار بال کٹواتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کو کٹوانے کا انحصار ان کی اقسام پر ہوتا ہے۔ کچھ بال قدرتی طور پر ہلکے ہوتے ہیں اور کم رفتار سے بڑھتے ہیں جبکہ کچھ بال موٹے ہوتے ہیں اور ان کے بڑھنے کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ لہٰذا بالوں کو اس وقت کٹوائیں جب وہ تھوڑے زیادہ بڑے ہوجائیں، ورنہ بالوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بالوں کو تولیے سے خشک نہ کریں
مرد و خواتین نہانے کے بعد اکثر اپنے بالوں کو تولیے سے خشک کرتے ہیں لیکن یہ غلط طریقہ ہے۔ بالوں کو تولیے سے خشک کرنے پر بال دوگنی رفتار سے ٹوٹتے ہیں۔ نہانے کے بعد کنڈیشنر استعمال کرنے والوں کےلیے تو یہ طریقہ اور بھی خطرناک ہے کیونکہ گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کرنے پر بالوں کی جڑوں میں شدید رگڑ پیدا ہوتی ہے اور بالوں کے کنارے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر غلطی سے آپ نے اپنے بالوں کو تولیے سے رگڑ ہی لیا ہے تو ہلکا سا پانی بالوں میں لگائیں۔ اس کے علاوہ  گیلے بالوں میں کنگھی کرنے سے بھی گریز کریں، اس سے بھی بال ٹوٹتے ہیں۔
بالوں میں رنگ (ڈائی) کرنا
موجودہ دور میں بالوں میں مختلف کلر کرنا فیشن بن گیا ہے لیکن  یہ شوق بہت مہنگا ہے۔ اگر کسی اچھے سیلون سے بالوں میں رنگ کروایا جائے تو اچھی خاصی رقم خرچ ہوجاتی ہے لہٰذا نوجوان سیلون کے بجائے گھر پر خود ہی کلر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن یہ طریقہ انتہائی غلط ہے کیونکہ ماہرین کے مقابلے میں عام افراد کلر کرنے کی تکنیک اور اس کے نقصانات و فوائد سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے لہٰذا اپنے بالوں کو خود کلر کرنا بہت بڑا خطرہ ہوتا ہے، جب کہ ڈائی میں موجود کیمیکلز بھی بالوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، اس صورتحال میں کسی اچھے سیلون جائیں اور ماہرین کے مشورے سے بالوں کو کلر کروائیں۔
بالوں کی بہت زیادہ اسٹائلنگ نہ کریں
مرد حضرات، خاص طور پر نوجوان بالوں کی اسٹائلنگ کے معاملے میں بہت حساس ہوتے ہیں اور بالوں کو مختلف اسٹائل دینے کےلیے جیل اور موز وغیرہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ بہتر ہے کہ بالوں کی اسٹائلنگ کم کریں اور سادہ انداز اختیار کریں اور اپنے چہرے کے حساب سے بال بنائیں کیونکہ اگر آپ بالوں سے محروم ہوگئے تو کوئی بھی اسٹائل بنانے کے قابل نہیں رہیں گے لہٰذا اس صورتحال سے بچنے کےلیے پہلے ہی احتیاط کرلیں۔

عرقِ گلاب کے حیران کن فائدے | Amazing Benefits of Rose Water

عرق گلاب کیل مہاسوں کا خاتمہ کرنے میں بھی نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ
  گلاب کو عموماً خوبصورتی کے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کے فائدے بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں جن سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔
گلاب کی پتیوں کو نچوڑ کر عرق نکالا جاتا ہے جسے پانی میں شامل کرکے ایک محلول تیار کیا جاتا ہے جو ’’عرقِ گلاب‘‘ (روز واٹر) کہلاتا ہے۔ عرقِ گلاب انسانی جلد کے لیے بے حد مفید ہے کیونکہ یہ جلد کو نرم رکھتا ہے اور خشکی دور کر کے جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے۔
اپنی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی بناء پر عرقِ گلاب جلد کے خلیات کو توانا اور صحت مند بنانے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے اور جلد کے ٹشوز کی افزائش میں معاون بنتا ہے جب کہ اس محلول کو باقاعدگی سے استعمال کر کے جلد پر پڑنے والی جھریوں کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔
عرق گلاب بالوں کی متعدد بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ روکھے بالوں اور سر میں خشکی سے چھٹکارا پانے کےلیے عرق گلاب کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
آشوب چشم کا علاج بھی عرق گلاب سے ہوتا ہے۔ اس کے چند قطرے نہ صرف آنکھوں کی جلن کو دور کرتے ہیں بلکہ گرد وغبار کو بھی نکال باہر کرتے ہیں جبکہ آنکھوں کے گرد پڑنے والے سیاہ حلقوں کو بھی عرقِ گلاب کے استعمال سے دور کیا جاسکتا ہے۔
رنگ گورا کرنے والی کریموں میں عرق گلاب کے چند قطرے ڈال کر روزانہ جلد پر لگایا جائے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں جلد پر نمی کا برقرار رہنا سرفہرست ہے۔
چہرے کو تروتازہ رکھنے کےلیے عرق گلاب لگانے سے جلد کی اوپری سطح پر موجود مردہ خلیوں (ڈیڈ سیلز) کا خاتمہ ہوتا ہے اور جراثیم سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
اگر آپ چہرے پر کیل مہاسوں سے پریشان ہیں تو اِن کا حل بھی عرق گلاب کی صورت میں موجود ہے۔ لیموں کا رس اور عرق گلاب کی مساوی مقداریں آپس میں ملا کر چہرے پر روزانہ آدھے سے ایک گھنٹے تک لگائے رکھنے سے کیل مہاسوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ وقت پورا ہونے کے بعد چہرے کو تازہ پانی سے دھو لیجیے۔ یہ عمل جاری رکھنے سے نہ صرف چہرے پر موجود کیل مہاسے ختم ہوجائیں گے بلکہ آئندہ بھی ان کے نمودار ہونے کا امکان نہیں رہے گا۔